प्रलय चुप हो गया।
क्योंकि वो झूठ नहीं बोल सकता था।
उसी पल…
वेदिका के दिमाग में तेज़ दर्द उठा।
उसने सिर पकड़ लिया—
“आह…”
कुछ यादें…
तेज़ी से लौटने लगीं—
बारिश…
रोहित…
खून…
और फिर—
वो खुद… रोहित के पास झुकी हुई…
वेदिका चीख पड़ी—
“नहीं!”
प्रलय तुरंत उसके पास आया—
“क्या हुआ?”
वेदिका की साँसें तेज़ हो गईं—
“मुझे… कुछ याद आया…”
प्रलय का दिल धड़क उठा—
“क्या?”
वेदिका काँपती हुई बोली—
“वो… गिरने के बाद…
Bhavisha Soni
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
shama gupta
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Nishuakash Soni
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
SUSHMA THAPA
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Shristi Kumari
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Seema 03666
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Namichand Gurjar
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Geeta
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
1772778912504823
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Shivam Rao
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Rinku Verma
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Juli Mandal
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Pooja Verma
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟