चकाचौंध भरी रोशनियों के बीच, आरव के लिए सब कुछ धुंधला हो गया था। सिर्फ़ एक चीज़ साफ़ नज़र आ रही थी—रैंप पर चलती हुई आरोही। पर आरव की आँखों में आरोही का चेहरा नहीं, बल्कि अपनी माँ का वो अधूरा सपना तैर रहा था।
उसने अपनी आँखें बंद कीं और एक पल के लिए कल्पना की... फ्लैशलाइट्स की वो बौछारें आरोही पर नहीं, उस पर पड़ रही हैं। वो नीले रंग का मखमली गाउन एक काले रंग के शाही शेरवानी में बदल गया है। वो चाल, वो अदा, वो आत्मविश्वास... वो सब आरव का अपना है। वो रैंप के आखिर में खड़ा है, और भीड़ आरोही का नहीं, आरव का नाम चिल्ला रही है।
Anu Garg
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Vijayanta Siyag
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Shristi Kumari
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Devika ..
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
SUSHMA THAPA
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Saba Quraishi
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Juli Mandal
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Vijayanta Siyag
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Saba Quraishi
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Anshul Varshney
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Saba Quraishi
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Niku Choudhary
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟