वेदिका प्रलय की कार में बैठी थी। लेकिन आज उसके चेहरे पर वही पुरानी बेचैनी लौट आई थी।
फोन वाली बात उसके दिमाग में बार-बार घूम रही थी।
प्रलय ड्राइव कर रहा था, लेकिन उसकी नजरें बीच-बीच में वेदिका पर भी जा रही थीं।
“तुम अभी भी उसी कॉल के बारे में सोच रही हो?” उसने पूछा।
वेदिका ने हल्का सा सिर हिलाया।
“मुझे समझ नहीं आ रहा… वो चाहता क्या है।”
प्रलय की आवाज़ ठंडी हो गई।
Seema 03666
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
SUSHMA THAPA
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Saba Quraishi
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
jyoti kumari
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Anu Garg
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Golu Kumar
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Saba Quraishi
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Shristi Kumari
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Bhamari Choudhary
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟
Sudam Gholap
تبصرہ حذف کریں۔
کیا آپ واقعی اس تبصرہ کو حذف کرنا چاہتے ہیں؟